Blog

Press Release of  Track and Trace Compliance in the Tobacco Industry Seminar BY IPOR
Press Release of Track and Trace Compliance in the Tobacco Industry Seminar BY IPOR

اسلام آباد، 24 جنوری 2026

انسٹی ٹیوٹ فار پبلک اوپینین ریسرچ (IPOR) نے تمباکو کی صنعت میں ٹریک اینڈ ٹریس سسٹم (TTS) پر عملدرآمد سے متعلق اپنی دوسری تحقیقاتی رپورٹ جاری کر دی، جس میں فیڈرل بورڈ آف ریونیو کے ٹریک اینڈ ٹریس کے  نظام پر عمل درآمد  نہ ہونے کی نشاندہی کی گئی ہے۔ اس حوالے سے ہفتہ کو اسلام آباد میں ایک پالیسی ڈائیلاگ کا انعقاد کیا گیا جس کے مہمان خصوصی  وزیر مملکت برائے خزانہ و ریلوے اور وزیرِاعظم ڈلیوری یونٹ کے سربراہ،
 بلال اظہر کیانی تھے۔

تقریب میں پالیسی سازوں، ماہرینِ معیشت، ریگولیٹری اداروں اور تحقیقی ماہرین نے شرکت کی اور تمباکو کی صنعت میں ٹیکس چوری، اسمگلنگ اور غیر قانونی تجارت کے اثرات پر تفصیلی غور کیا گیا۔

انسٹی ٹیوٹ فار پبلک اوپینین ریسرچ کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر طارق جنید نے تحقیقاتی رپورٹ پیش کرتے ہوئے بتایا کہ ملک بھر کے 19 اضلاع کی 38 مارکیٹوں میں واقع 1,520 دکانوں سے حاصل کردہ ڈیٹا کے مطابق 51 فیصد سگریٹ برانڈز حکومتی قوانین پر پورا نہیں اترتے۔ ان میں ٹریک اینڈ ٹریس اسٹیمپ کی عدم موجودگی، کم از کم قانونی قیمت کی خلاف ورزی اور و،ارت صحت کے قانون کے مطابق تصویری و تحریری ہیلتھ وارننگ نہیں ہے۔

ریسرچ رپورٹ کے مطابق 477 سگریٹ برانڈز میں سے صرف 49 فیصد مکمل طور پر قواعد و ضوابط پر عمل کرتے پائے گئے، جبکہ 320 اسمگل شدہ اور 121 مقامی طور پر تیار کردہ برانڈز بغیر ٹریک اینڈ ٹریس اسٹیمپ کے فروخت ہو رہے تھے۔ اسی طرح کم از کم قانونی قیمت 162.25 روپے کی پابندی بھی مؤثر نہ رہی، جہاں صرف چند سگریٹ برانڈز ہی حکومت کی جانب سے  کم از کم طے کردہ قیمت  اوپر فروخت ہوتے پائے گئے۔

ریسرچ رپورٹ  میں یہ بھی انکشاف ہوا کہ اگرچہ دکاندار ٹریک اینڈ ٹریس نظام سے آگاہ ہیں، تاہم صرف 40 فیصد نے غیر قانونی سگریٹ فروخت کرنے میں کسی بھی مشکل کا سامنا ہونے کی بات کی، جس سے ٹریک اینڈ ٹریس نظام کے کمزور نفاذ کی ثابت ملتا ہے۔

تقریب سے خطاب کرتے ہوئے پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف ڈیولپمنٹ اکنامکس (PIDE) کے رجسٹرار اور ماہر معاشیات ڈاکٹر ناصر اقبال نے کہا کہ یہ صورتحال متعلقہ  اداروں  کی  کمزوریوں اور مؤثر ہم آہنگی کے فقدان کو ظاہر کرتی ہے۔ انہوں نے زور دیا کہ مالی نظم و ضبط اور ریگولیٹری اصلاحات کو یکجا کیے بغیر اس مسئلے پر قابو پانا ممکن نہیں۔

پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف ڈیولپمنٹ اکنامکس کی اسسٹنٹ چیف (پالیسی) محترمہ مہوش ممتاز نے کہا کہ شواہد پر مبنی پالیسی سازی ناگزیر ہے۔ ان کے مطابق کمزور عملدرآمد نہ صرف قومی خزانے کو نقصان پہنچا رہا ہے بلکہ عوامی صحت کے لیے بھی خطرہ بن چکا ہے۔

اختتامی کلمات میں وزیر مملکت بلال اظہر کیانی نے کہا کہ حکومت ٹریک اینڈ ٹریس سسٹم کے مؤثر نفاذ کے لیے پرعزم ہے۔ انہوں نے زور دیا کہ سخت نگرانی، مضبوط قوانین اور اداروں کے درمیان بہتر تعاون ہی غیر قانونی تجارت کے خاتمے کا واحد راستہ ہے۔

اجلاس کے اختتام پر سفارشات پیش کی گئیں جن میں ریٹیل سطح پر سخت نفاذ، متعلقہ اداروں کے درمیان بہتر رابطہ، اور ٹیکس و قیمتوں کے نظام کو مؤثر انداز میں استعمال کرنے پر زور دیا گیا۔

آئی پی او آر نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ وہ شواہد پر مبنی تحقیق کے ذریعے پالیسی سازوں کی رہنمائی کرتا رہے گا تاکہ پاکستان میں ٹیکس نظام مضبوط، معیشت مستحکم اور عوامی صحت کا تحفظ ممکن بنایا جا سکے۔

up